نئی دہلی یکم مئی(آئی این ایس انڈیا) ہندوستان نے ان پوسٹوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے جن پرعرب ممالک کے کچھ ٹویٹر ہینڈل نے یہ الزام لگایا ہے کہ ملک کے بہت سے حصوں میں کورونا وائرس پھیلانے کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ہندوستان نے اس الزام کو اپنے خلاف پروپیگنڈہ قرار دیا۔جب کہ خودبی جے پی لیڈران مسلمانوں سے سبزی نہ خریدنے اورانھیں کورونا کاذمے داربتاکرملک بھرمیں غلط تاثردے رہے ہیں۔ میڈیانے بھی پورے سماج میں زہر پھیلایاہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستونے کہا کہ خلیجی ممالک بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے لیے پرعزم ہیں اور وہ اس کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے ہیں۔ ایساامکان ظاہرکیاجارہاتھاکہ حکومت ہند اسے داخلی معاملہ قراردے گی جیساکہ سی اے اے پراس نے کہاتھا۔لیکن اوآئی سی،مذہبی حقوق کی امریکی تنظیم اورخلیج سے مسلسل آوازیں اٹھ رہی ہیں۔خلیجی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے قریبی تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران ہندوستان خطے میں اپنے دوست ممالک کو کھانے اور ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنارہا ہے۔ اس کے بعد ہم معاشی اصلاحات کی ممکنہ حالت کے بارے میں ہم سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
ایک آن لائن میڈیابریفنگ کے دوران، انہوں نے کہا کہ آپ جو زیادہ تر دیکھتے ہیں وہ دلچسپی رکھنے والے لوگوں کا پروپیگنڈا ہے۔ اس طرح کی اشتعال انگیز ٹویٹس ان ممالک کے ساتھ ہمارے دوطرفہ تعلقات کی وضاحت نہیں کرسکتی۔ ہمارے تعلقات کی اصل تصویر بالکل مختلف ہے۔
ہندوستان کے کئی حصوں میں کوویڈ 19 کے پھیلاؤ کے لیے مسلمانوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سماجی میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی کوششیں برابر جاری ہیں۔ جس کے دوران لوگوں کے الزامات پر مختلف عرب ممالک کے شہریوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ٹوئٹر پر ناراضگی کا اظہارکیاتھا۔اسلامی تعاون تنظیم، جو 57 ممالک کی تنظیم ہے، نے حال ہی میں ہندوستان پراسلامو فوبیا کا الزام عائد کیا تھا۔ مگر بھارت نے ان الزامات کو افسوسناک قرار دیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان شریواستو نے کہا کہ ہم ان ممالک میں رمضان المبارک کے دوران خوراک اور ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی کوششیں کر رہے ہیں اور یہ ایسی چیزہے جس کی بہت تعریف ہوئی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ کورونا وائرس کی وباکے بعد، وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جئے شنکر خطے سے اپنے ہم منصبوں سے مستقل رابطے میں ہیں۔